عہد جدید کی مسلمان عورت اپنے حقیقی چہرے کی تلاش میں

  • عہد موجود میں دنیا کے مختلف سرمایہ
    دارسماجی ادارے جبرا عورت کو ایک مصنوعی اور نمائشی قالب میں ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔ہر وہ عورت جو شعور اور آگاہی رکھتی ہے اس کا پہلاسوال یہ ہے کہ میں کون ہوں ؟یہ عورت قدیم روایتی عورت بننے پر تیار نہیں ہے اور نہ ہی وہ سماجی قوتوں کی مرضی اور خواہش میں ڈھلنا چاہتی ہے ۔۔وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنا آپ خود دریافت کرے اور اپنے وجود اور اپنی حقیقت کو خود دریافت کرے تاکہ اس کی ذات کا فطری حسن ظاہر ہو سکے۔۔۔
    اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے ہو اس کا حقیقی چہرہ کون سا ہے ؟قدیم عورت کا روایتی چہرہ اور جدید عورت کا مصنوعی چہرہ انسانیت کے جوہر سے عاری ہے ۔۔ یہاں ایک بیدار اور صاحب فکر عورت ہے جو نہ وراثتی اور روایتی چہرہ چاہتی ہے اور نہ ہی مغرب کی تقلید میں مصنوعی چہرہ پسند کرتی ہے وہ عورت رسول کی بیٹی فاطمہ کو جاننا چاہتی ہے ایک ایسی بے مثال خاتون تک رسائی چاہتی ہے جس کی شخصیت میں طاقت ،حرارت ،حوصلہ ،صبر ،استقامت گویاتمام اعلیٰ صفات نقطہ عروج پر ہیں مگر ہمارے خطباء نے اس عورت کے لیے فاطمہ کو ماضی کا ایک قصہ غم بنا کر پیش کیا ہے۔۔جلتا در اور بی بی پر ہونے والے ظلم کی روداد الم سنا کر طاقتور اور جابر طاقتوں کے مقابلے ڈٹی ہوئی اس طاقتور خاتون کو ماضی کے دھندلکوں میں چند آنسوؤں تک محدود کر دیا ہے ۔۔۔
    جدید نسل کی عورت فاطمہ کو کہاں تلاش کرے جو انسانی حقوق کی سب سے بڑی آواز ،الہی حدود کی سب سے بڑی محافظہ،ایک عظیم سماجی رہنما ، مساوات اور عدل کی گونج دار آواز اور وقت کی تمام خیانت کار قوتوں کے مقابل ڈٹی ہوئی طاقتور خاتون ہے ۔۔جس کا گھر جنت نظیر ہے جس کا معاشرے سے تعلق بے مثال ہے ۔معاشرے سے جڑی ہوئی ایک بےنظیر خاتون جو بے مثال بیٹی باوقار زوجہ اور طاقتور ماں ہے ایک ایسا گھر جہاں مرد شاہ مردان (مردوں کا بادشاہ )اور عورت سیدۃ النساء العالمین (عورتوں کی سردار )ہے .. یہ دونوں عظیم شخصیات عوام کے لیے ناشناختہ ہیں تاریخ کے دھندلکوں میں فاطمہ زہرا کی اصل پہچان تک پہنچنا آج کی عورت کے لیے مشکل ہے اسے بتایا گیا ہے کہ یہ ہستیاں آخرت کا توشہ ہیں اور بس !! آزادی مساوات احترام انسانیت اور انصاف جیسے انقلابی افکار سے بہت دور کھڑی عورت فاطمہ کو کیسے پہچان سکتی ہے ؟فاطمہ ارتقا کی ممکنہ آخری حد ہے ۔۔ایک مثالی عورت ،،،۔۔۔فاطمہ کا گھر گویا دلوں کا کعبہ ہے جہاں تمام بیدار دل اس گھر کا طواف کرتے ہیں۔ انسانیت آزادی انصاف طلبی تقوی عشق اور جہاد کے عاشق اسی کعبہ فکر کے زائر اور حاجی ہیں ۔۔اگر چہ اس خاندان کے
    عاشقوں کا مالی ایثار بھی عروج پر ہے لاکھوں روپے ان بے مثال ہستیوں کے ذکر پر خرچ کیے جاتے ہیں مگر نتائج حوصلہ افزا کیوں نہیں ہیں؟؟ کیوں یہی عاشق جو ر واستبداد، ظلم اوراستحصال کا شکار ہیں؟؟ ہمارا عشق اور ایمان ہماری زندگیوں پر اثر انداز کیوں نہیں ہو رہا؟؟ سبب فقط یہ ہے کہ ہم ان عظیم ہستیوں کو پہچاننے سے معذور ہیں ۔ہم ان کی شخصیات سے بے خبر ہیں ہم ان کی عظمتِ کردار و عمل سے ناواقف ہیں اور اس بیچارگی اور نا آشنائی کے مجرم وہ علماء خطباء اور دانشور ہیں جنہوں نے ان انقلاب آفرین اور روح پرور ہستیوں کو ان کے عاشقوں سے پردے میں رکھا ہے ہمیں ایسے صاحب بصیرت دانشور چاہییں جو ان ہستیوں کی ودیعت کردہ اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور دیں مکتب کی شناخت دیں آئمہ کی سیرت اور فکر عام کریں۔ چند معجزے ، کرامتیں اور آنسو ان عظیم ہستیوں کے تعارف کے لیے کافی نہیں ہیں بلکہ عمومی معاشرے میں ان کے انقلابی افکار اور قابل تقلید کردار ہیں جن سے بے خبر عاشق بہت دور ہیں اس لیے اس عشق کے ظاہری ثمرات سے محروم ہیں ۔۔
    اس وقت دنیا میں عورتوں کی تین قسمیں ہیں
    ایک روایتی عورت ہے
    دوسری مغرب کی تقلید میں مصنوعی عورت
    اور تیسری وہ جو حضرت فاطمہ سے شخصیت کا ہنر سیکھنا چاہتی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت دو نسلوں کے درمیان ایک ان دیکھا فاصلہ جنم لے رہا ہے جس طرح اس وقت گائے کا دودھ بھی میسر ہے اور کیمیائی مادوں سے بھرا ڈبوں میں موجود دودھ بھی مل رہا ہے۔۔۔ایک کہنہ روایات میں پھنسی مجبور عورت اور ایک مغرب کی چکا چوند میں ڈھلتی ہوئی مصنوعی عورت !!جدید دور کے سماجی شکاریوں کا شکار بیٹی اپنی روایتوں میں پھنسی ہوئی ماں سے بہت دور ہے ۔۔یہ بھی حقیقت ہے کہ فاطمہ زہراء کے تقلید میں شخصیت کی تعمیر ہوگی تو دونوں نسلوں کے مابین فاصلہ نہیں بلکہ ہم رنگی ہوگی جنریشن گیپ نہیں رہے گا کیونکہ ماں اور بیٹی دونوں کی شخصیت میں ایک جیسی عظمتیں کار فرما ہوں گی اب صورتحال یہ ہے کہ پرانی روایتی ماں اپنی بیٹی کی جدید مصروفیات کو کفر گردانتی ہے اور بیٹی ماں کو جاہل اور کم عقل سمجھتی ہے روایتی ماں اپنی کہنہ روایات کو مذہبی رنگ دے کر اپنی بیٹی کو اسی سراپے میں دیکھنے کی خواہش مند ہے اور بیٹی اسے روایات میں پھنسی ہوئی ایک کمزور ہستی سمجھ کر اس سے دور ہے اس وقت معاشرے میں دو طبقے ہیں ایک وہ جو روایات کہنہ کا اسیر ہے اور پرانے خیالات کے تحت معاشرے میں ان روایات کا نفوذ چاہتا ہے جو اپنی توانائی کھو چکی ہیں۔۔ دوسرا وہ طبقہ ہے جو جدیدیت کے سیلاب میں خود کو پسماندہ متعصب اور تنگ نظر نہیں کہلانا چاہتا جس کی وجہ سے اس کی اگلی نسل مادر پدر آزاد ہو کر جدیدیت کے کھوکھلے اورمصنوعی میدانوں میں آگے بڑھتی ہے اور یہ خوفزدہ طبقہ ظاہری دانشوری کے زعم میں خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں ایک طبقہ لعنت و ملامت اور طعن و تشنیع سے اس مادہ پرست سیلاب کو روکنا چاہتا ہے اور دوسرا خود کو اغوا کار قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ترقی پسند ہونے کا لبادہ اوڑھے بیٹھا ہے۔۔
    مغرب زدہ عورتیں ہر ملک میں موجود ہیں اور یہ عورتوں کی بین الاقوامی قسم ہے ۔آج کی عورت مغرب کی مادام گواشن سے آشنا نہیں ہے جس نے بو علی سینا ابن رشد اور ملا صدرا جیسے اکابر فلسفیوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا اور ان سے استفادہ کیا فکر یونان پر معرکۃ الآرا کام کیے نہ آج کی عورت اٹلی کی اس خاتون سے واقف ہے جس نے یونان کے ارسطو کے رسالہ نفس کی روشنی میں بو علی سینا کی کتاب نفسیات کی تصحیح کی نہ مادام کیوری کے بارے میں معلوم ہے جس نے تابکاری جیسے مسائل پر تحقیقی کام کیے نہ وہ خاتون ریسڈلا چیپل جس نے تمام زندگی علی کی شخصیت اور افکار پر کام کیا اور اپنی تمام زندگی دنیا کے اس علمی معمے اور دیو مالائی سچ کی شناخت میں گزار دی اس نے علی کی عظیم شخصیت کے درست ترین حقائق روحانی عظمت اور بلند و بالا حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔۔ اس دختر فرنگ نے نہج البلاغہ جیسی علمی کائنات کو کشف کیا علی کے باعظمت کلام کو مرتب و مدون کیا ہم ان دختران فرنگ سے بھی ناواقف ہیں جنہوں نے الجزائر کی جنگ ازادی میں عظیم کردار ادا کیے ہمیں آئرلینڈ کی انجلہ کے بارے میں نہیں معلوم جو مجاہدہ آزادی بنی! اس لیے جان لیجئے کہ مغرب کی نمائندہ خاتون وہ نہیں جو فحش لباس اور محزب اخلاق حرکات کے ساتھ آپ کے تصورات میں جلوہ آرا ہے جو رنگ برنگا اشتہار اور مردوں کا کھلونا ہے ایک ایسی جدید دور کی کنیز جو شہوت پرستوں کی ہوس کے لیے ایک کھلونے کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہم فقط مغرب کی حسینہ عالم کے بارے میں جانتے ہیں انجلینا جولی کو مغربی عورت کا چہرہ سمجھتے ہیں جو مغرب کی افزائش زر کا باعث ہیں افزائش نسل کا نہیں !! یہ مغربی عشرت کدوں کی کنیزیں ہیں یہ وہ زنِ بازاری ہیں جن کی تقلید میں مشرقی عورت اپنا تن من دھن لٹانے کے لیے تیار ہے مغرب ہمیں کبھی ان خواتین کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا جو یونیورسٹیوں میں تحقیق کے میدانوں کی شہ سوار ہیں جن کی خدمات سے مغرب ترقی کے زینے طے کر رہا ہے ہمیں فقط زن بازاری سے ملوایا جاتا ہے اس کی کھوکھلی چکا چوند اور حقیر شخصیت ہمارے ہاں تقلید کے لیے پیش کی جاتی ہے عورتوں کی اس قسم کو بڑھاوا دے کر مشرق کو اس کی طرف متوجہ کرنے والی وہ طاقتیں ہیں جو عورت کو اپنی مادی ترقی کا زینہ بنا کر معاشرے سے اقدار اور انسانیت چھین کر اس مادی نظام کو لانا چاہتی ہیں جو صرف اس دنیا پر نظر رکھنے والی دجالِ وقت کی ایک ہی مادی انکھ ہے ۔۔۔
    حالانکہ قرون وسطیٰ میں اسی مغربی معاشرے میں عورت فساد کی جڑ ، ذلت اور رسوائی کا نشان تھی اسی سماجی جبر اور ظلم کے نتیجے میں عورت کا رد عمل بھی شدید اور خوفناک تھا ۔۔یہ عورت جب طاقتور ہوئی تو اس نے ایک مادر پدر آزادی کی بنیاد رکھی ۔۔ مگر سرمایہ دارانہ نظام کے طاغوتی کارندوں نے اس عورت کو اپنے مالی مفادات کے لیے ایک ایسا کھلونا بنا لیا جو ان کی چابی سے چلتا ہے۔مغربی طاقتوں نے فن اور ادب کے نام پر جنسی آزادی اور بے راہروی کو عام کیا اور پسماندہ ملکوں کے ذرائع ابلاغ اور نشر و اشاعت کے تمام مراکز پر اس کی ترویج میں مصروف ہوئے گویا مشرق میں ایک سماجی بغاوت کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جہاں اگلی نسل امتیازات اور روایات کو چھوڑ کر سرکشی اختیار کرے اور جنسی ازادی کے سیلاب میں ڈوب جائے تاکہ طاقتور مغرب ان پسماندہ معاشروں کو خوب لوٹ کھسوٹ سکے غفلت اور بے حسی میں نیم بے ہوش معاشرہ مغرب کی جنسی آزادی کے سحر میں گرفتار اپنی سیاسی سماجی اور اقتصادی غلامی سے بے خبر رہے ۔۔
    مغرب کی عورت جب اپنی طاقت سے اقتصادی میدانوں میں نکلی تو اس سے جڑے خاندانی مذہبی اور اجتماعی احساسات کمزور پڑ گئے مردوں کے برابر آ کر اس نے ایک ایسی آزادی کے میدان میں قدم رکھا جہاں وہ اپنی لطیف سچائیوں کو بھول کر فطری اور روحانی تقاضوں کو توڑ کر خود مختار اور آزاد ہو گئی ۔۔یہ ایک تباہ کن رد عمل تھا اس سختی جبر اور حقوق کی پامالی کا کہ جس کے بعد وہ عورت اب مجبور نہیں تھی کہ وہ قربانی دے ایثار کرے اور افراد خانہ کے لیے اپنی ضروریات کو پس پشت ڈال دے یہ عورت عشق فداکاری ایثار اور اخلاقی قدریں سب بھول کر فقط اپنی ذات کے لیے جینے کا جذبہ لے کر آگے بڑھی طلاق اور گھر ٹوٹنے سے معاشرہ سماجی حوالے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگا بچوں کے لیے قربانی دینے کا تصور عقلی طور پر ٹھکرا کر عورت معاشرے سے اجتماعی تعلق کمزور کر کے ایسی تنہائی کا شکار ہو گئی کہ خود کشی تک جا پہنچی کیونکہ اخلاقی اقدار میں ایثار و قربانی اور وفا ہی انسان کو اجتماعی زندگی کا کامیاب فرد بناتے ہیں شاید اس لیے مغرب میں خواتین کے خودکشی کے بے شمار واقعات سامنے آتے رہتے ہیں مردوں کی نسبت عورتوں میں یہ شرح زیادہ ہے خودکشی کی یہ شرح ایک سنگین سماجی مسئلے کی صورت مغرب کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے مذہب انسان کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے خدا تک پہنچاتا ہے اور مادر پدر ازادی انسان کو انسانی اور الٰہی راستوں سے بے تعلق کر کے فرد کو ایک دوسرے سے بے نیاز کر دیتی ہے!! یاد رہے کہ تنہائی اور خودکشی دو ہمسائے ہیں جن کی دیواریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں…
    عورتوں میں آزادی کی خواہش اور مردوں کی ہوس پرستی!! ان دو المیوں نے نکاح اور گھر جیسی نعمت کو مغرب سےچھین لیا گھر بنے بھی تو اتنی تاخیر سے کہ ان گھروں میں خالص جذبوں کی حرارت نہ رہی نہ ہی گھر کی وہ خوبصورت وحدت تشکیل پا سکی جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو کر ایک بہترین اور خوبصورت چار دیواری کی بنیاد رکھتے ہیں پھر اس ٹوٹے پھوٹے گھریلو نظام میں جو اپنی رغبتیں اور آزاد جنسی رابطوں سے تھک ہار کر بالاخر ایک گھر بنا لیا گیا وہ ایک بے جان اور بے ذائقہ رشتوں کی صورت وبال بن گیا اور دکھاوے کے لیے ہاتھ پکڑنا مصنوعی جذبوں کا اظہار کرنا اور پھر اپنا معاش کمانے کے لیے اپنے راستوں پر نکل جانا یہ گھر نہیں بلکہ دو تھکے ہارے لوگوں کا ایک باہمی سمجھوتہ ہے جہاں خوشیاں نہیں جذبات نہیں مجبوری کے رشتے ہیں حتی کہ اس گھر کا بچہ بھی اس سرد مہری اور خود غرضی کا تیسرا کردار بن کر سامنے آتا ہے نہ ماں باپ بچے کے لیے اپنا وقت قربان کرنے پر تیار ہیں اور نہ بچہ ماں باپ کے لیے کوئی وقت نکال سکتا ہے میاں بیوی اس سے پہلے کے بے شمار جنسی تجربات کے بعد اب اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں ایک دوسرے میں کوئی کشش نظر نہیں آتی سو پورا گھر ایک سخت سرد مہری کے زیر اثر ہوٹلوں اور کلبوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے ۔۔۔
    عورت نے چھین کر آزادی تو لے لی مگر سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے مفادات کے تحت گھر کی جنت سے منہ موڑتی عورت کو جنس اور ہوس کے اس استحصال میں اپنا شکار بنا لیا جہاں فنون لطیفہ جو لطیف احساسات پر مبنی سلسلے تھے اسے عورت کے برہنہ وجود کی عیاشی کا ذریعہ بنا دیا گیا گویا سرمایہ دارانہ نظام عورت کو بطور تفریح پیش کر کے اصل مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عورت کو اپنی مصنوعات کا اشتہار بنا کر اسے اپنے مادی مقاصد میں بطور کنیز استعمال کرتا ہے ۔۔۔
    آج مشرق کی عورت بھی اپنے معاشرے کے غیر حقیقی اور جاہلانہ جبر سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے اور مغرب ایسے مفرور قیدی کا بآسانی شکار کر رہا ہے۔۔مشرقی معاشرے نے عورت کو حقیر کمزور اور شوہر کی کنیز بنا کر رکھنا چاہا اور اس نے مغرب کی چکا چوند کی طرف قدم بڑھانے شروع کیے ہیں ہم اس عورت کو حضرت فاطمہ اور حضرت زینب کے کردار میں ڈھلنے کے مشورے دیتے ہیں جس کی قوت فکر میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ان عظیم الشان انسانی اقدار کی محافظ اور باعظمت ہستیوں کو پہچان سکے جنہوں نے قدم قدم پر انسانیت، محبت، ایثار ،شجاعت ،وفا اور استقامت کے طاقتور معجزے دکھائے۔ ہماری عورت کو عالمانہ محفلوں میں علمی و تبلیغی اجتماعات میں قران و حدیث و فلسفہ کی امور میں یہاں تک کہ مساجد میں بھی جانے کی اجازت نہیں دی جاتی وہاں فقط مرد جمع ہوتے ہیں عورت صرف مجلس عزا تک جا سکتی ہے جہاں پر اسے ان باعظمت خواتین کی لامثال کردار کی بجائے ان کے غم سنا کر گریہ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے یہی عورت مغرب کی آزادی کے نعرے کا شکار ہوتی ہے یہ آزادی علم و دانش تخلیق و تہذیب اور تمدن کی آزادی نہیں نہ اس کی شعوری سطح اور فکر و نظر کی بلندی کی آزادی ہے بلکہ یہ آزادی شکاریوں کی وہ قینچی ہے جو اس کی چادر کاٹنے کے در پے ہے ۔۔۔اور دوسری طرف مغربی مصنوعات کی پجاری وہ عورت ہے جس نے اپنے میک اپ اور ظاہری لبادے کو رنگین بنانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے اس مصیبت میں نہ پچھلی روایتی عورت اس مغربی یلغار کے مقابلے ڈٹ سکتی ہے اور نہ ہی وہ جدید عورت جس کی مثال ایک چابی کی گڑیا کی سی ہے ۔۔ان فکری حملوں کا مقابلہ کرنے کی اہل وہ عورت ہے جو نئے سرے سے خود کو دریافت کرنا چاہتی ہے جو مغرب کے نجس ہاتھوں میں کھیلتی نعرہ آزادی لگاتی اس عورت کے کریہ چہرے کی حقیقت بھی جان چکی ہے اور کہنہ روایات میں پھنسی بیچاری عورت کی حقیقت سے بھی خوب اگاہ ہے یہی وہ خواتین ہیں جو اس وقت تمام حقیقتوں سے واقف ہو کر شکاریوں کے جال میں پھنسی ہوئی بے راہ عورتوں کے سانچے میں ڈھلنے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ اپنی ذات کے لیے ازادی اور انتخاب کا حق چاہتی ہیں حقیقی ازادی اور حقیقی انتخاب اور وہ مثالی انتخاب !!پیغمبر کی بیٹی فاطمہ ہے!! جناب فاطمہ کی ولادت اس معاشرے میں ہوئی جہاں آبرو مند مرد بیٹے کا باپ بننا پسند کرتا تھا۔ یہ قبائلی عہد مادری عہد سے پدری عہد میں داخل ہو چکا تھا یہاں عزت کا نشان فقط مردوں کی اونچی پگڑیاں تھیں بچی کے لیے سب سے بہتر داماد قبر قرار دی گئی تھی . بیٹی کو دفن کر دینا خاندانی عزت کے تحفظ کے لیے ضروری تھا عورت معاشی حوالے سے بھی ایک ناکارہ بوجھ سمجھی جاتی تھی عورت فقط ضعف ،ذلت اور پستی کی علامت تھی البتہ بنی ہاشم کی عورتیں صاحب عزت تھیں قرآن نے غیرت عزت اور پگڑیوں کو رد کرتے ہوئے اسے فقط اقتصادی مفادات کا شاخسانہ قرار دیا سورہ انعام اور سورہ اسراء میں خدا فرماتا ہے کہ اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی رزق عطا کرتے ہیں۔۔یہاں بیٹے سے محروم شخص کو ابتر کہا جاتا تھا یعنی جو بانجھ ہو بے ثمر ہو۔۔بے مایہ ہو!! اس کے مقابلے میں حضرت فاطمہ کی عطا پر لفظ کوثر یعنی برکت کی تمثیل بیان فرمائی گئی یعنی کثرت اولاد کی خوشخبری سنائی گئی ..
    مکہ میں بنو ہاشم کی معنوی قدر و منزلت کا روشن چہرہ محمد اور خدیجہ کا گھر ہے آقا فاتح مکہ ہیں ابتر کہنے والوں کو اپنی رحمت کے اعلان میں آزاد فرماتے ہیں تمام جزیرہ عرب ان کے زیر نگیں ہے ان کے ایک ہاتھ میں سرداری اور دوسرے ہاتھ میں نبوت ہے شکوہ اقتدار کے نقطہ عروج پر ہیں یہ وہ شجر نور ہے جس کی نمود غار حرا میں ہوئی ہے جس کا نور تمام روئے زمین پر چھا چکا ہے اس باعظمت شاہ عرب کا کل سرمایہ ان کی بیٹی فاطمہ ہے انسانیت کی بلند اقدار کی وارث فقط فاطمہ ہے ۔۔خدائے ابراہیم نے تمام مخلوق میں اپنے گمنام سپاہی کے طور پر ایک خاتون کو منتخب کیا جو ہاجرہ کہلائی! کسی نبی کو طواف گاہ میں دفن ہونے کی اجازت نہیں ملی فقط ہاجرہ وہ باعظمت کردار ہے جسے خدا نے ابراہیم کو حکم دے کر اپنی طواف گاہ کے چوتھے پائے میں دفن کروایا خدا نے عورت کی عظمت کے اس انقلاب کی پہلی اینٹ رکھی اور پھر اس عز و شرف کا دوسرا اظہار فاطمہ کو بنایا جو شجرہ نبوت کو دوام دینے والی پیغمبر کی نسل اور ان کے مقصد کی وارث ایک باعظمت طاقتور مضبوط باحوصلہ خاتون ہے جس کے لیے شہنشاہ عرب کھڑے ہو کر اپنی مسند پیش کرتے ہیں۔۔فاطمہ ایک عظیم انقلاب کے میدان کی سپاہی ہیں اور فاطمہ اس انقلاب میں اپنی حیثیت خوب جانتی ہیں ۔۔
    خانہ پیغمبر اور خانہ زہرا ایک دوسرے سے متصل ہیں اور یہ دونوں گھر مسجد نبوی کے احاطے میں ہیں پیغمبر سفر پر جاتے ہوئے سب سے آخر میں فاطمہ کو سینے سے لگاتے ہیں اور واپسی پر سب سے پہلے فاطمہ کے نورانی چہرے پر نظر ڈالتے ہیں فاطمہ بطن خدیجہ میں اپنی والدہ کی سماجی تنہائی پر ان سے گفتگو فرماتی ہیں جس کا اظہار جناب خدیجہ رسول اللہ سے بھی فرماتی ہیں رسول پر آئیں سختیوں میں فاطمہ ان کی ہمدم اور انیس ہیں اور بعد از رسالت اپنے شوہر علی کا سارا بار غم اپنے با حوصلہ کندھوں پر اٹھاتی ہیں۔۔۔
    شعب ابی طالب کی جانکاہ سختیوں میں فاطمہ اپنے بابا اور اپنی ماں کے ساتھ پوری استقامت سے تاریخ کے اس مشکل ترین دور سے گزر رہی ہیں جہاں بھوک فاقہ سماجی تنہائی اور عداوت کے نوکیلے لہجے ہیں۔ انہی حسرت ناک دنوں میں پیغمبر کی مشکل زندگی کی رفیق زوجہ حضرت خدیجہ اپنی دختر فاطمہ سے مخاطب ہیں ،،اے فاطمہ قریش کی کسی عورت نے ایسا راحت و آرام نہ اٹھایا ہوگا جو مجھے میسر آیا مجھے وہ کرامت نصیب ہوئی جو کسی کے نصیب میں نہ آسکی میں خدا کی محبوب ترین بندے کی زوجہ بنی اور اس کے منتخب پیغمبر کی شریک حیات ہوں میرے فخر کے لیے کافی ہے کہ میں نے دعوت رسالت پر سب سے پہلے لبیک کہا اور رسول اللہ کی امت کی ماں کہلائی،، شعب ابی طالب کی مشکل وادی سے نکلتے ہی حضرت فاطمہ ماں کی مفارقت کا زخم اٹھاتی ہیں اور اس کے بعد یہ فاطمہ ہیں جو اپنے بابا کی ہمدرد و غمگسار اور انیس بن کر ہر پل ان کی غمگسار ہیں ۔۔قربانی، شہادت، ایثار اور فداکاری اس عظیم الہی انقلاب کی بنیادی شرائط ہیں جس کا نقطہ آغاز فاطمہ ہے اور اس انقلابی تاریخ کو حرارت توانائی اور اعتبار دینے والی شخصیت علی ہے!! جو بچپن سے ہی دعوت ذوالعشیرہ میں پیمان وفا کر چکے ہیں اور ابو طالب کے مہربان سائے کا دوسرا رخ بن کر بیت پیغمبر میں آ چکے ہیں اب وہ ہارون رسالت ہیں اور رسول فرما رہے ہیں کہ اسلام کی طاقت ثروتِ خدیجہ اور سیف علی ابن ابی طالب ہے۔۔ کم عمری میں ہی علی پیغمبر گرامی کے محافظ عاشق اور سپاہی ہیں علی کا بچپن بابا ابو طالب کے گھر نہیں خانہ پیغمبر میں گزرا ہے بالکل ایسے جیسے آقا کا بچپن چچا ابوطالب کے گھر میں بسر ہوا۔۔مکی زندگی کے تیرہ سال مکمل ہوئے اور مصیبتوں تنہائیوں اور دشمنیوں کی ہرزہ سرائیوں کے بعد اب باب مدینہ کھلنے والا ہے مدنی زندگی کا سنہرا دور آغاز ہو چکا ہے پیغمبر پہلوئے مسجد میں قیام فرما چکے ہیں مواخات میں مصطفیٰ رشتہ اخوت میں علی کو اپنا بھائی قرار دے چکے ہیں ۔علی و فاطمہ وحی کے نور میں پروان چڑھے آغوش نبوت کی خوشبو میں پلے اور عقیدے اور روحانی منزلوں میں قدم بقدم مصطفیٰ کے ساتھ چلے۔۔ ایک ہی سرچشمہ ہدایت سے فیضیاب ہوئے ۔۔مصیبتوں دکھوں اور تکلیف دہ ساعتوں میں نور پیغمبر کے رفیق و دمساز دو عظیم نور !جنہیں خدا نے اپنی رحمتوں کے سائے میں ایک کر دیا عالمین میں سب سے مکمل اسوہ رکھنے والے گھر کی تکمیل جہاں شاہ مردان یعنی مردوں کا سردار علی ہے اور عورت عالمین کی عورتوں کی سردار ہے یہ گھر عالمین کے انسانوں کے لیے بہترین انتخاب ہے ایک باعزت پر افتخار اور باعمل خاتون اور خدا کے پسندیدہ رنگوں میں ڈوبا ایک عظیم الشان مرد دونوں کردار جانتے ہیں کہ زندگی کی معراج جہاد حقوق اللہ اور حقوق العباد میں پوشیدہ ہے۔ فاطمہ امور خانہ انجام دے رہی ہیں اور علی کے پرسکون گھر میں قناعت اور صبر کے ساتھ کوثر کی جنت بسا رہی ہیں اور علی مجاہدہ حق میں میدانوں میں علم توحید سربلند کر رہے ہیں اس روحانی طمانیت میں فاطمہ ظاہری فقر سے بے نیاز ہیں اور منزل شکر پر فائز ہیں ۔۔فاطمہ کو معلوم ہے کہ علی کی عظمتوں کے ساتھ علی کی آزمائشوں میں بھی شریک ہو چکی ہوں۔ فاطمہ رسالت کے بعد اب ولایت کے مراتب کی بھی امین بنا دی گئی ہیں آزادی اور عدالت کے شجرہ طیبہ کی نگران اور وارث فاطمہ ! انسانی حقوق، ایثار، قربانی ،جانبازی ،وفا اور تسلیم کا مظہر بن کر زمین پر خدا کی نورانی جنت تعمیر کرنے والی ایک عظیم ماں!! ایک مثالی بیوی !!اور ایک باعظمت بیٹی !!!!!!!فاطمہ وہ باعظمت خاتون ہے کہ شفاعت کبریٰ کا شرف جس کی نورانی شخصیت سے جڑا ہے یہ بھی یاد رہے کہ ہم نے شفاعت کو بے حساب گناہوں کے بعد خصوصی سفارش پر ملنے والی جنت قرار دیا ہے حالانکہ شفاعت کا الہی تصور یہ ہے کہ جب انسان حر بن کر اپنی روح میں انقلاب محسوس کرے اور انسانی آزادی، عدل ا،یثار اور خدا شناسی کا مرتبہ پا لے اور باطنی طور پر اس در کی معرفت حاصل کر لے جہاں اسے نیا انسان بننا ہے اور قلب و روح کی ماہیت کو بدلنا ہے تو گویا ان وسیلوں سے وہ جور و ستم اور ستم شعاروں کی بیعت سے نکل کر ایمان کی بلند چوٹیوں تک پہنچ جاتا ہے یہی شفیع کی شفاعت کا مقام بلند ہے !!فاطمہ کی معرفت آپ کو انسانیت کی تمام باعظمت قدروں تک پہنچاتی ہے فاطمہ کا گھر جو خانہ رسالت سے متصل ہے اس میں نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے نئے ستارے طلوع ہو رہے ہیں ابتری کے طعنے کا جواب نور حسن ع کی صورت میں مل چکا ہے ایک طویل عرصے کے بعد آقا کے چہرے پر ملکوتی تبسم ہے پھر اس گھر میں پیغمبر کی نسل نورانی کا سلسلہ آگے چل پڑا ہے معنوی اعتبار سے علی محمد مصطفی کے نور کا تسلسل ہیں اور فاطمہ نسل محمدی کی بقا اور زندگی ہے !!خدا نے آقا کے دو جدا ہونے والے بیٹوں کا بہترین نعم البدل حسن و حسین کو قرار دیا ہے ۔آقا کی آنکھوں کا نور دل کا سرور اور سینے کی ٹھنڈک فاطمہ زہرا کی نورانی اولاد ہے ۔۔ہر ہر لمحہ اظہار محبت ان کی دوستی کو اپنی دوستی اور ان سے دشمنی کو خود سے دشمنی قرار دینا کبھی منبر پر زانو پہ بٹھا کر ان کے فضائل بیان کرنا کبھی پشت پر بیٹھے لخت جگر کی وجہ سے سجدے کو طول دینا کبھی کندھوں پر بٹھا کر مدینہ کی گلیوں میں ان کے فضائل بیان کرنا دراصل امت کو یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ تمام چہرے میرے چہرے ہیں۔ توحیدی میدانوں میں شہادت ایثار تسلیم اور وفا کے نور سے قیامت تک دین الہی کے محافظ اور وارث ہیں ۔پیغمبر کی یہ محبت بھی گویا عشق الہی کے تابع ہے آقا ان کریم نورانی چہروں میں شریعت الہی کا مستقبل روشن و تاباں دیکھ رہے ہیں یہ ہدایت کے روشن راستے، معرفت الہی کے تابندہ ستارے اور صبح یقین کے دمکتے سورج ہیں ۔۔۔
    ۔ اس توحیدی انقلاب کا ماضی بےشمار قربانیوں اور صبر آزما مرحلوں سے گزرا ہے
    آقا مکہ کی تاریک وادیوں سے حرا کی پرنور چوٹی تک بالکل اکیلے ہیں بے حسی فکری جمود اور کینہ پرور لوگوں کے درمیان یک و تنہا اور کاندھوں پر ایسی امانت کا بار جو پہاڑوں پر اترے تو پہاڑ اس کی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہو جائیں! آقا تن تنہا کار تبلیغ کے مشکل راستے کے مسافر ہیں ..شام کو تھکے ہارے شور و غا اور دشنام سہ کر گھر لوٹتے ہیں تو خدیجہ اور فاطمہ کی مہربان آنکھیں ان کا استقبال کرتی ہیں ۔۔پھر خدیجہ بھی اسی عالم غربت اور تنہائی میں رخصت ہوتی ہیں اب تنہا کم سن فاطمہ ہے جو سائے کی طرح اپنے بابا کے ساتھ ساتھ ہیں فاطمہ نے اپنا وجود اپنی زندگی اپنا ایک ایک لمحہ بابا کی تسکین پر قربان کر دیا ہے ایک باوفا صاحب ایثار وجود کا نام فاطمہ ہے۔۔۔
    ایک عزیز از جان بیٹی کی باپ سےجدائی ہولناک اور سنگین سانحہ ہے جس نے سیدہ کے جگر کو پارہ پارہ کر دیا ہے اس اذیت ناک غم کے فورا بعد حجت الوداع پر کیے گئے وعدے سے انحراف کر کے امت نے اپنا رخ تبدیل کر لیا ہے فاطمہ کو اپنے بابا کے آخری جملے یاد آرہے ہیں ،،فتنے تاریک رات کے لشکر کی طرح امڈتے چلے آرہے ہیں ،،،علی عالم تنہائی میں پیمبر گرامی کو دفن کر رہے ہیں اور اصحاب علی کے حق کو اپنی خیانت کی مٹی میں دفن کر رہے ہیں۔۔ علی سے ہر شخص نے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔مدینہ ہارون رسالت کو پھر تنہا کر چکا ہے ۔کل تن تنہا دشمنوں اور بت پرستوں میں تبلیغ کرتے ہوئے اپنے بابا کا مضبوط سہارا اور طاقت بننے والی ایک بے مثال بیٹی فاطمہ اب ہارون رسالت کی صبر آزما مشکل میں ایثار و قربانی کی عظیم مثال بے ۔۔ علی کی ڈھال اور مدافع بن کر اس محاذ وقت پر ڈٹ کے کھڑی ہیں۔۔ بچپن میں فقر و فاقہ قید و حصار اور تنہائیوں میں بابا کا ساتھ دینے والی اور اب حق پرستی، عدل، مساوات اور تقوی کے راستوں پر فاطمہ علی کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اسلام کی تقدیر کا فیصلہ اہل بیت کے گھر کی بجائے سقیفہ میں کیا جا رہا ہے کہنہ اقدار دوبارہ زندہ ہو رہی ہے علی کی شجاعت فداکاری اور خدا کی راہ میں تلوار بازی اور جہاد نے دوستوں کو حسد اور دشمنوں کو عداوت میں مبتلا کر دیا ہے۔ علی کو گمنام اور تنہا کرنے والوں کی اس مہم کا محرک وہ کینہ ہے جو بدر و خندق میں علی کی تلوار سے پیدا ہوا۔۔ جس کی ایک ضربت عبادت ثقلین سے افضل قرار دی گئی اب وہ مدینہ کی گلیوں میں چلتا ہے تو کوئی سلام کرنے کی توفیق نہیں رکھتا فاطمہ خاتون نا آگاہ نہیں ہے وہ اس انقلابی تحریک کی بانی کی دست راست رہی ہے وہ شریک کار رسالت ہے ایسی مثالی خاتون ہے جو مسئولیت اور ذمہ داری کو خوب جانتی ہے! اور غدیر کے اعلان کی سختی سے خوب آگاہ ہے! جہاں خدا نے حکمیہ اور اصرار سے پیغام پہنچانے کی تاکید کی تھی اب فاطمہ رسول کی وارث بن کر غدیر کے اس اعلان کی سختی کے سبب ولایت کے محاذ پر ڈٹ کر کھڑی ہے ایک بہادر جانثار وفادار اور مضبوط مجاہدہ کی طرح ولایت الہی کے منصب دار اور امیر المومنین کے لیے مدافع ولایت بننے پر فاطمہ امت کے ہاتھوں زخمی ہو چکی ہیں بچہ شہید ہو چکا ہے مگر تا دم اخر یہ بے مثال ہستی ولایت کے لیے ایک چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑی ہے۔۔ فدک جیسا تحفہ جو پیغمبر نے بحکم خدا فاطمہ کو ہبہ کیا تھا چھین لیا گیا ہے علی وصیت پیغمبر کی وجہ سے خانہ نشین ہو چکے ہیں اور قرآن کی جمع و تدوین میں مصروف ہو گئے ہیں بلال مدینہ چھوڑ چکے ہیں سلیمان ایران لوٹ گئے ہیں عمار علی کے حکم پر خاموش اور ابوذر کسی اور قریے میں گم ہو گئے ہیں مگر فاطمہ خاموش نہیں ہیں حالات کے آگے سر نہیں جھکایا جانتی ہیں کہ راستہ تبدیل کرنے والے اب اس نظام کو کبھی پلٹنے نہیں دیں گے مگر فاطمہ اس غاصب نظام کو بے نقاب کرنا چاہتی ہیں حق کا اثبات کرنا چاہتی ہیں یہاں تک کہ علی کے حق ولایت کے لیے فاطمہ مدینہ کے گھروں پر دستک دے رہی ہیں ۔۔رسول کا پیمان ولایت یاد دلا رہی ہیں اسلام نے ایثار حق پرستی اور خضوع وخشوع کی جو روح پھونکی تھی اور انسانی عز و شرف کے جو معیار بنائے تھے ایمان و تقوی کے جو فلسفہ بتلائے تھےاب اس کی جگہ پرانی عصبیت کہنہ روایات اور نسلی رقابت لے رہی ہے وہ دوست جنہوں نے اپنے ایمان اخلاص اور جدوجہد سے وفا کی تاریخ رقم کی تھی اب وہ موقع شناس لوگوں کے سامنے بے حیثیت ہو چکے ہیں کیونکہ وہ صاحب مال لوگوں میں شامل نہیں ہیں۔ مفادِ امت کے نام پر علی کے حق کو پامال کر دیا گیا ہے!!
    جس وقت مکر تقوی کا لباس پہن لیتا ہے تو تاریخ ہولناک ترین حادثے سے دوچار ہوتی ہے ہر طرف وہ شب سیاہ چھائی ہوئی ہے جس کی خبر فاطمہ کو ان کے بابا نے بوقت رخصت دے دی تھی فتنوں کے پے در پے یلغار اور اس باد مخالف کے مقابل یک و تنہا فاطمہ!! وصیت کی جگہ بیعت نے لے لی ہے علی صبر کی قربان گاہ میں خانہ نشین ہیں اور تنہائی کے عالم میں شہ مردان کا کلیجہ شق ہو رہا ہے فاطمہ اس خیانت کار ماحول میں حسنین کا خون آلود مستقبل دیکھ رہی ہیں ۔۔خونریز بیعتیں ،قتل و غارت گری اور مظالم کا ہولناک سلسلہ جو انسانیت اور دین کے لیے سنگین حادثے برپا کرتا رہا یہ مستقبل تھا جسے فاطمہ دیکھ رہی ہیں۔۔
    گریہ و آہ کا طوفان تربت پدر پر مرثیہ پڑھتی ہوئی ایک مظلومہِ تاریخ بیٹی ،، مجھ پر ایسے مصائب پڑے کہ دنوں پر پڑتے تو وہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے،، تین جمادی الثانی شمع رسالت خاموش ہو رہی ہے علی مزید تنہا ہو رہے ہیں رات کی تاریکی میں جھکے کندھوں پر کوہ غم اٹھائے علی گریہ کر رہے ہیں۔۔۔۔۔وا غربتا!!
    فاطمہ کا نام قیامت تک انسانوں کے لیے عشق ، ایمان ، ازادی اور عدالت کا سورج ہے اغواء کار اور مکار دنیا پرستوں سےجنگ لڑتے ہوئے، ظالم و جابر حکومتوں سے ٹکرانے والوں کے لیے فاطمہ سرچشمہ حق پسندی ہیں !!اور عدالت طلبی فاطمہ کے ناقابل شکست کردار کا نعرہ ہے۔۔ فاطمہ ایک مثالی عورت ایک عظیم بیٹی ایک مثالی زوجہ اور ایک لا مثال ماں ہے ایک ایسی عظیم عورت جس نے اپنے عمل اور حوصلے سے عورت کے دائرہ عمل کو لامحدود کر دیا جس کا اسوہ ایک عورت کے لیے مثالی نمونہ ہے ہر اس با ہوش اور اہل فکر عورت کے لیے جو آزادانہ طور پر اپنی شخصیت کو تعمیر کرنے کی خواہشمند ہے فاطمہ زہرا کا حیرت انگیز بچپن ان کی جدوجہد صبر اور حوصلے سے بھرپور زندگی داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ان کا عظیم فاتحانہ کردار معاشرے کی درد مند رہبر افراد معاشرہ کی غم گسار و مددگار۔۔سائلوں کی مددگار کمزور اور کمتر افراد کی مونس۔افراد معاشرہ کے لیے حساس دل،مہربان اور شفیق!! گویا ہر ہر محاذ زندگی میں ایک شاندار شخصیت!! فاطمہ کی زندگی کا ہر پہلو روشن تابناک ، بہترین اور شاندار ہے توحیدی انقلاب کی صاحب ارادہ طاقتور مددگار !!باپ کی بہترین یاور !!شوہر کی طاقتور مدافعہ اور اس کی جدوجہد میں برابر کی شریک زوجہ!! اس کی ہمدم و ہمراز ایک چار دیواری کو اپنے ایثار ,قناعت اور شکر سے جنت بنانے والی خ اتون ایک ایسی خاتون جس کی طاقتور شخصیت علی جیسے باپ کی موجودگی میں اس کی نسل کی پہچان بن گئی ہے اج کی عورت اس معظم ہستی کی شخصیت کے روشن اور تابناک پہلوؤں سے واقف ہو کر ایک ایسی طاقتور سرخرو با اعتماد اور ناقابل شکست شخصیت بن سکتی ہے جس کے سامنے انسانی اقدار کے دشمنوں کے پاؤں اکھڑ جائیں!! کاش ہمارے خطباء علماء اور دانشور فاطمہ جیسی دیو مالائی طاقتور شخصیت کے ان پہلوؤں کو اجاگر کریں جہاں ایک مسلمان عورت اس جدید دور میں اپنے اپ کو ایک لازوال اور بے مثال کردار میں ڈھال کر جدید زمانے کی ہدایت یافتہ اورترقی یافتہ خاتون کہلا سکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *