مسلم لڑکی کی شناخت کی تشکیل میں عقل کا کردار

ایک مسلم لڑکی اپنی پہچان صرف روایت خاندان یا معاشرے کے دباؤ سے نہیں بلکہ اپنی عقل سوچ اور سمجھ بوجھ کے بنیاد پر بھی بناتی ہے۔ہر مسلم لڑکی کو یہ پہچان ہونی چاہیے کہ وہ ایک مسلم لڑکی کیوں کہلاتی ہے کیا چیز ایسی ہے جو اس کو لڑکی سے مسلم لڑکی بناتی ہے ایک لڑکی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی شناخت کرے خود کو اور اپنی اہمیت کو سمجھے۔ایک مثال سے بات کو سمجھتے ہیں کہ اگر ایک لڑکی با حجاب ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کیا ،وجہ یہ ہے کہ سب حجاب کرتے ہیں یا گھر والے کہتے ہیں اس لیے بلکہ نہیں، اگر حجاب کرتی ہوں تو مجھے معلوم ہونا چاہیے کہ حجاب کی اہمیت کیا ہے مقصد کیا ہے اور اس کے ذریعے ذاتی اقتدار کو سمجھوں ۔ایک اسرائیلی لڑکی نے اپریل کے مہینے میں ٹویٹ کی تھی کہ اگر اج ہم مسلمانوں سے ہار رہے ہیں تو اس کی دو بڑی وجوہات ہیں 1۔علماء 2۔ باحجاب خواتین۔یہ بات تو سمجھ میں اتی ہے کہ علماء اپنے علم کی وجہ سے اپنے مضبوط ایمان کی وجہ سے دشمن پر بھاری ہیں لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ باحجاب خواتین، لڑکیاں ان کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے کیوں؟ کیونکہ فقط کسی کے زور یا زبردستی نہیں بلکہ حجاب کی اہمیت کی وجہ جاننے کی وجہ سے دشمن ایک مسلم لڑکی سے ڈر گیا ہے ایک باکردار لڑکی اپنی کئی نسلوں کوبا کردار بناتی ہیں اور اگر اج ہم زیادہ بات حجاب پر کرتے ہیں تو وجہ یہی ہے کہ دشمن کا نشانہ حجاب ہے وہ حجاب جو ایک لڑکی معرفت کے ساتھ کرتی ہے کسی کے ڈر کی وجہ سے نہیں۔(ہمارے معاشرے میں دوسری یہ بات بھی بہت زیادہ رائج ہے جو زیادہ تر لڑکیاں کہا کرتی ہیں کہ کاش ہم لڑکے ہوتے ازاد ہوتے ہر جگہ اپنی مرضی ہوتی یہ وہ لڑکیاں کہتی ہیں جو اپنی اہمیت سے ناشنا ہے اس لیے ضروری ہے کہ ایک مسلم لڑکی خود کو پہچانیں ایک پاک اور دین اسلام کی خاطر نئ نسل کے لیے) ایک اچھی لڑکی کا رویہ اور طرز زندگی کا بہترین ہونا ضروری ہے اور کبھی بھی کوئی مسلم لڑکی یہ نہ سمجھے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی اگر وہ صرف اپنی چادر کی حفاظت بھی کرے تو دشمن ڈر جاتا ہے اور یہی لڑکی اگر شادی کے بعد اپنے شوہر اور گھر والوں کے ساتھ وفادار رہے تو یقینا ایک اچھی نسل کی پرورش کر سکتی ہے ۔عقل کا کردار یہ بھی ہے کہ اچھی تعلیم ،تجربات اور سوچ کے ذریعے اپنی مضبوط اور باخبر شناخت بنائے ہم نے اس دور میں بہت سنا ہے بہت بہادر خواتین کے قصے سنے ہیں کہ اپنے پانچ، چار ،اٹھ ،بچے دین اسلام کے خاطر قربان کرتی ہیں ہم اسانی سے سن لیتے ہیں مگر انہوں نے یقینا خود اتنا باکردار خود کو بنایا ہوگا تو خدا نے بھی ان سے قربانی قبول کی ہوگی۔(مرد کی غیرت کا اندارہ اس کی عورت کے لباس اور پردے سے لگایا جاتا ہے امام حسین علیہ السلام) تاریخ میں بھی عورت کا کردار رہا ہے کوئی شخص اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ تاریخ سازی میں عورت کا باواسطہ کردار ہے ۔کہتے ہیں عورت مرد کی تعمیر کرتی ہے اور مرد تاریخ بناتا ہے مرد عورت کی تعمیر میں جس حد تک دخل رکھ سکتا ہے اس سے زیادہ عورت کو مرد کے بنانے میں دخل ہے۔تاریخی تحقیقات اور نفسیاتی مطالعے نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ مرد کی شخصیت بنانے میں عورت زیادہ کامیاب اور فعال ہوتی ہے بنسبت اس کے کہ مرد عورت کی شخصیت بنائے ۔جب اپ تاریخ اسلام پر نظر ڈالیں گے تو دیکھیں گے کہ اسلام کی تاریخ ایک مذکر مونث تاریخ ہے لیکن ایسی تاریخ ہے جس میں مرد اپنے دائرے میں ہیں اور عورت اپنے دائرے میں ۔سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان حضرت علی علیہ السلام اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا لائیں جن کا اسلام کی تاریخ بنانے میں اہم کردار ہے۔اگر ان خاتون کا جو پیغمبر سے 15 سال بڑی تھی ایثار نہ ہوتا تو کیا ظاہری اسباب کے نقطہ نظر سے پیغمبر اپنے کام میں کامیاب ہو سکتے تھے؟پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اخری عمر تک جب بھی جناب خدیجہ کا نام لیتے تھے اپ کے انسو جاری ہو جاتے تھے. جناب عائشہ کہتی تھی ایک بوڑھی عورت اس لائق تو نہیں تھی کیا بات ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, تم سمجھتی ہو میں خدیجہ کی شکل اور سورت کے لیے روتا ہوں؟ خدیجہ کہاں اور تم اور دوسری بیویاں کہاں دونوں میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہو سکتا۔کربلا کی تاریخ مذکر مونث حادثہ کی تاریخ ہے۔کربلا امام حسین اور بی بی زینب سے مل کر مکمل ہوتی ہے۔عاشور کے سہ پہر جناب زینب نظر انے لگتی ہیں اس کے بعد سے ان کی ذمہ داری شروع ہو گئی وہ قافلے کی سردار ہیں کیونکہ اس وقت مرد صرف امام زین العابدین ہیں جو سخت بیمار ہیں اور ایک تیماردار کے محتاج ہیں یہاں تک کہ دشمنوں نے ابن زیاد کے عمومی حکم کے مطابق امام حسین کی اولاد میں کوئی مرد باقی نہ رہ جائے چند بار حملہ کیا کہ امام زین العابدین کو بھی قتل کر ڈالیں لیکن پھر خود ہی کہنے لگے یہ خود ہی مر رہا ہے چنانچہ یہ بھی خدا کی ایک حکمت تھی کہ امام زین العابدین اس طریقے سے بچ گئے اور امام حسین علیہ السلام کی پاک نسل باقی رہ گئی جناب زینب کا ایک کام امام زین العابدین کی تیمارداری تھا۔بی بی زینب نے امام عابد کی تیمارداری کو بچا کر امامت کو بھی بچایا ہے۔امام حسین کے سوگ کی مجلس پہلی بار جناب زینب نے قائم کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے فرائض سے بھی غافل نہیں ہیں ۔جناب زینب نے جب کوفے میں خطبہ دیا جہاں پر لوگوں کی سانسیں تک رک گئی یعنی سانس لینے کی اواز بھی کسی کی نہیں ائی۔حیا عفت پاکی اور تقدس میں ڈوبی ہوئی ایک شخصیت۔اس دلیل سے کربلا کی تاریخ مذکر مونث ہے کہ اس کے بنانے میں مرد کا کردار بھی موثر ہے اور عورت کا کردار بھی موثر ہے لیکن اپنے دائرے میں ( زینب نے اپنی نسل کو اسلام کی خاطر قربان کر دیا)ایک ماںکے لیے اپنے بچے کو روتے ہوئے دیکھنا بھی مشکل ہوتا ہے اور پھر اس کو قربان کر دینا اتنا اسان نہیں ہوتا مگر یہ ایک وہی عورت کر سکتی ہے جو خدا کے ساتھ خالص اور وفادار رہ کر پہلے اپنی تربیت کرے اور پھر اپنی اولاد کو بھی اس قابل بنائے۔علی غضنفر کی بہت خوبصورت غزل ہے جس میں انہوں نے کربلا کی خواتین کے کردار کو بیان کیا ہے “عجب ہی عشق کا معیار لکھا جاتا ہے جب کبھی ماؤں کا کردار لکھا جاتا ہے لا رہی ہیں رباب رن میں اصغر کو ایسی نصرت کو وفادار لکھا جاتا ہے ٹکڑے قاسم ہیں مگر ورد زباں پر ہے حسین ماں ہو ایسی تو عزادار لکھا جاتا ہے بات کربل سنبھالتی رہی زینب سب کو اس لیے ان کو علمدار لکھا جاتا ہے جو نہیں مانتے حیدر کو غضنفر مولا ان کی ماؤں کو ہی غدار لکھا جاتا ہے” اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ وہ تو اہل بیت تھے وہ تو پاک تھے اس لیے انہوں نے اتنی بڑی قربانی دی اگر اج کل کے دور میں ہم لڑکیاں، خواتین انہی کے نقش قدم پر چلیں تو ہم بھی اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں ہر طرح سے مگر شرط یہ ہے کہ خدا کے ساتھ خالص رہنا ہے خدا کے لیے زندگی گزارنی ہے۔علامہ طباطبائی کی زندگی کا واقعہ،علامہ طباطبائی کی شادی کو 40 سال ہو چکے تھے جب اپ کی زوجہ انتقال کر گئی ۔علامہ بیمار ہو گئے اور اسی لمحے سے اپ کو دل کی بیماری کا مسئلہ شروع ہوا ۔اپ بڑے عرصے کے لیے روتے بھی رہے لوگ اپ سے کہتے تھے۔ اپ فلاسفر ہیں، عارف ہیں، فقیہ ہیں، قران کے مفسر ہیں،موت ایک حقیقت ہے اپ کی زوجہ بھی انتقال کر گئی ہیں موت نہ جھٹلانے والی حقیقت ہے ۔علامہ نے جواب دیا، میرا گریہ خدا سے شکوہ نہیں ہے میں یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا نے انہیں کیوں اٹھا لیا میں روتا ہوں جب مجھے یہ یاد اتا ہے کہ وہ کس قدر ایماندار اور مہربان تھیں ان 40 سالوں میں انہوں نے ایک بار بھی مجھے ناراض نہیں کیا میں روتا ہوں کیونکہ اگر میں نے کچھ بھی کیا ہے یہ اس لیے ہوا ہے کیونکہ وہ ساتھ تھیں میرا نام تفسیر المیزان پر لکھا ہے (علامہ طباطبائی) دو لوگوں نے یہ تفسیر لکھی ہے یہ میری زوجہ کی مدد تھی جس کی وجہ سے میں اس قابل ہوا ہوں۔رہبر معظم انقلاب کے ذکر کے بغیر اب ہر بات ادھوری لگتی ہے آغا خامنائی فرماتے ہیں،”حجاب حکم دین اور شہداء کی خواہش ہے ہوشیار رہو کہ شہداء کی خواہش کو فراموش نہ کرو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *